Sufinama

مرے دل سے کوئی پوچھے کہ تم ہو اور کیا تم ہو

راقم دہلوی

مرے دل سے کوئی پوچھے کہ تم ہو اور کیا تم ہو

راقم دہلوی

MORE BY راقم دہلوی

    مرے دل سے کوئی پوچھے کہ تم ہو اور کیا تم ہو

    نصیب دشمناں ہو دشمنوں کا مدعا تم ہو

    نہاں ہم سے ہی رہتے ہو وگر نہ جا بجا تم ہو

    گلوں میں رنگ آرا غنچوں میں نگہت فزا تم ہو

    نہیں جب واسطہ ہم سے تو پھر اغماض کیسے ہیں

    کرو اغماض بھی اون سے کہ جن کی آشنا تم ہو

    رہا دور جہاں قایم کبھی ہو جائے گا ملنا

    ہمارے دم میں دم باقی ہے اور نام خدا تم ہو

    گرے جاتے ہو نظروں سے مرے جی سے اترتے ہو

    ہر ایک چشم تماشا کا تماشا ہو گیا تم ہو

    وفا پر ناز کرتے ہو دکھاؤ کچھ وفا کر کے

    اسی بیگانہ واری پر کہیں ہم با وفا تم ہو

    ملو گے ہم سے تم آکر یہ سب کہنے کی باتیں ہیں

    کرو گے اوس کا دل ٹھنڈا کہ جس کے مبتلا تم ہو

    نہ دیتے دل کبھی تم کو اگر پہلے سمجھ لیتے

    کہ ایسے بے وفا ہو اور غرض کے آشنا تم ہو

    ہماری آرزو دل کی تمہاری جنبش لب پر

    تمنا اب بر آتی ہے اگر کچھ لب کشا تم ہو

    نہ نکلے کام جب تم سے تمہاری پھر خوشامد کیوں

    جہاں میں اور بھی شاہد ہیں کیا ایک دل ربا تم ہو

    صنم بھی تم نہیں بت بھی نہیں جو تم کو ہم پوجیں

    تمہارے ناز اٹھائیں کیا خدائی میں خدا تم ہو

    تمہارے گھر سے ہم نکلے خدا کے گھر سے تم نکلے

    تمہیں ایمان سے کہہ دو کہ کافر ہم ہیں یا تم ہو

    جب آنکھیں چار ہوتی ہیں کدورت جاتی رہتی ہے

    نہیں ہوتے مگر تم صاف وہ کافر ادا تم ہو

    زمانہ کو بدلنے دو خدا وہ دن بھی کر دے گا

    تماشا دیکھ لینا ہم سے کرتے التجا تم ہو

    یہ سب اڑ جائے گی نخوت گلے سے مے اترنے دو

    بنا دیں گے تمہیں ہم بھی کہ کیا تھے کیا سے کیا تم ہو

    غزل یہ دور جائے گی لکھو اس رنگ سے راقمؔ

    کہ ہر انصاف پرور کی زباں پر مرحبا تم ہو

    مآخذ:

    • کتاب : کلیات راقم (Pg. 145)
    • Author : راقمؔ دہلوی
    • مطبع : افضل المطابع دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY