دن عید کا ہے جائے یہ خالی نہ کہیں آج
دن عید کا ہے جائے یہ خالی نہ کہیں آج
صدقے ترے مل لے گلے اے ماہ جبیں آج
یہ رنگ گلوں میں نہ حسینوں میں یہ جوبن
عالم میں نظر آتے ہو خوش رنگ تمہیں آج
کیا قدرت باری ہے جو کہلاتے تھے کبھی شاہ
مدفوں ہیں وہی تخت نشیں زیر زمیں آج
تلوا مرا کھجلاتا ہے ہو خیر الہی
یہ وحشت دل پاؤں نہ پھیلاے کہیں آج
مدت ہوئی دیکھے ہوئے اس رشک قمر کو
چھاتی سے لگاؤں جو وہ مل جائے کہیں آج
کی وصل کی درخواست تو ہنس کر کہا اس نے
واللہ میں کل آؤں گا فیاضؔ نہیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.