Font by Mehr Nastaliq Web

جو چشم ترحم کو واکیجئے گا

اسحٰق حسین فریدی

جو چشم ترحم کو واکیجئے گا

اسحٰق حسین فریدی

MORE BYاسحٰق حسین فریدی

    جو چشم ترحم کو واکیجئے گا

    مئے جامِ الفت عطا کیجئے گا

    تصدق میں اپنے نواسوں کے مولیٰ

    مرے دردِ دل کی دوا کیجئے گا

    ہے اسحٰق مضطر ترے درپہ شاہا

    جو کچھ مدعا ہے عطا کیجئے گا

    اٹھ گئے ہیں اس جہاں سے آج سبط مصطفیٰ

    بادشہ کونین کا جس کا کوئی ہمسر نہیں

    ہے یتیمی چھا گئی آل عبا کی شکل پر

    باپ بھائی چل بسے اب کوئی بھی یاور نہیں

    ملتجی دربار میں تیرے شہا اسحاق ہے

    اہدنا یا سیدی تم سا کوئی رہبر نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ مسلم مشاہیر ویشالی جلد اول (Pg. 107)
    • Author : محمد ثناء الہدیٰ قاسمیؔ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے