Font by Mehr Nastaliq Web

خاک لے کر سوئے صحرا مجھے وحشت نکلی

مبارک حسین مبارک

خاک لے کر سوئے صحرا مجھے وحشت نکلی

مبارک حسین مبارک

MORE BYمبارک حسین مبارک

    خاک لے کر سوئے صحرا مجھے وحشت نکلی

    دل ہی نکلا ترے گھر سے طبیعت نکلی

    کتنے جلادوں کی روندی ہوئی تربت نکلی

    جس جگہ نعش گنہگار محبت نکلی

    ان سے جب وصل کے وعدوں کی حکایت نکلی

    ایک اک بات پہ سو طرح کی حجت نکلی

    خانۂ جسم جلا کر تپِ فرقت نکلی

    اب تو اے سوزش پنہاں تری حسرت نکلی

    کون سی بات اٹھا رکھی ہے تونے ظالم

    اب بھی دل سے جو نہ نکلی تو محبت نکلی

    کہتے تھے لوگ ہوا کا بھی گذر جس میں نہیں

    عاشقوں کی اسی کوچہ میں تو کثرت نکلی

    کھل گئیں دل پہ جو باتیں تری عیاری کی

    میں محبت جسے سمجھا تھا عداوت نکلی

    مجھ سے منھ پھیر لیا یار نے ہنگام سفر

    دل کی حسرت بھی نہ یا رب دمِ رخصت نکلی

    اب تو وہ ہونٹوں کی جنبش پہ یہ فرماتے ہیں

    پھر مرا قصہ چھڑا میری شکایت نکلی

    صاف کرتے ہیں اگر دل کو مرے سمت سے آپ

    مہربان کہیے تو کچھ کتنی کدورت نکلی

    اس کی تو سنتے جو میرا نہ تھا کچھ ان کو خیال

    میری حسرت کی بھی افسوس نہ حسرت نکلی

    نزع میں دیکھے جو ظالم ترے تیور بے ڈھب

    تا زباں آکے بھی منہ سے نہ وصیت نکلی

    دیکھ کر اس کو بڑھی اور بھی مایوسی دل

    آپ کے خط کی تو بے طور عبارت نکلی

    لے گئی دل میں جو کچھ تھا تری ایذائے فراق

    لوٹ کر اچھی طرح گھر کو مصیبت نکلی

    پھر مبارکؔ کو دیے آپ نے صدہا الزام

    اب نہ کہیے گا کہ پھر منہ سے شکایت نکلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے