خاک لے کر سوئے صحرا مجھے وحشت نکلی
خاک لے کر سوئے صحرا مجھے وحشت نکلی
دل ہی نکلا ترے گھر سے طبیعت نکلی
کتنے جلادوں کی روندی ہوئی تربت نکلی
جس جگہ نعش گنہگار محبت نکلی
ان سے جب وصل کے وعدوں کی حکایت نکلی
ایک اک بات پہ سو طرح کی حجت نکلی
خانۂ جسم جلا کر تپِ فرقت نکلی
اب تو اے سوزش پنہاں تری حسرت نکلی
کون سی بات اٹھا رکھی ہے تونے ظالم
اب بھی دل سے جو نہ نکلی تو محبت نکلی
کہتے تھے لوگ ہوا کا بھی گذر جس میں نہیں
عاشقوں کی اسی کوچہ میں تو کثرت نکلی
کھل گئیں دل پہ جو باتیں تری عیاری کی
میں محبت جسے سمجھا تھا عداوت نکلی
مجھ سے منھ پھیر لیا یار نے ہنگام سفر
دل کی حسرت بھی نہ یا رب دمِ رخصت نکلی
اب تو وہ ہونٹوں کی جنبش پہ یہ فرماتے ہیں
پھر مرا قصہ چھڑا میری شکایت نکلی
صاف کرتے ہیں اگر دل کو مرے سمت سے آپ
مہربان کہیے تو کچھ کتنی کدورت نکلی
اس کی تو سنتے جو میرا نہ تھا کچھ ان کو خیال
میری حسرت کی بھی افسوس نہ حسرت نکلی
نزع میں دیکھے جو ظالم ترے تیور بے ڈھب
تا زباں آکے بھی منہ سے نہ وصیت نکلی
دیکھ کر اس کو بڑھی اور بھی مایوسی دل
آپ کے خط کی تو بے طور عبارت نکلی
لے گئی دل میں جو کچھ تھا تری ایذائے فراق
لوٹ کر اچھی طرح گھر کو مصیبت نکلی
پھر مبارکؔ کو دیے آپ نے صدہا الزام
اب نہ کہیے گا کہ پھر منہ سے شکایت نکلی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.