ہاتھ سے کیا رکھیں پیمانے کو ہم
ہاتھ سے کیا رکھیں پیمانے کو ہم
پھر کہاں پائیں گے میخانے کو ہم
کر چکے برباد کاشانے کو ہم
اب بسائیں چل کے ویرانے کو ہم
پھر ہیں بیتاب ان کے گھر جانے کو ہم
کچھ نہ سمجھے پہلے سمجھانے کو ہم
اب کریں یاد آپ کے آنے کو ہم
یا بتا کر راستہ جانے کو ہم
کیسا یہ عالم مصیبت خانہ ہے
دیکھو روتے تھے یہیں آنے کو ہم
فصل گل میں بے ترے وہ دل کہاں
کس کے ساتھ اب جائیں میخانے کو ہم
شمع کو جلنے پہ جب پروا نہیں
اب نہ جلنے دیں گے پروانے کو ہم
وہ مقابل بھی تو ہوں آئینے کے
دیکھ لیں گے ان کے شرمانے کو ہم
آپ بھی سنتے جو اپنی وصف زلف
طول دیتے اور افسانے کو ہم
جام جم سے بھی اگر بدلے کوئی
تو نہ بدلیں اپنے پیمانے کو ہم
کیا ہجوم حسرت دل ساتھ تھا
شہر سمجھے اپنے ویرانے کو ہم
وہ اگر ہم سے نہ چلتے کوئی چال
کچھ نہ کہتے ان کے اٹھلانے کو ہم
دل کو لے آئے تھے کیوں بے فائدہ
آپ کی زلفوں میں الجھانے کو ہم
دیکھتے ہیں کس نگاہ یاس سے
اس زمانے کے بدل جانے کو ہم
اے مبارکؔ ان کا تھا جب تک خیال
سنتے تھے کچھ سب کے سمجھانے کو ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.