Font by Mehr Nastaliq Web

ہاتھ سے کیا رکھیں پیمانے کو ہم

مبارک حسین مبارک

ہاتھ سے کیا رکھیں پیمانے کو ہم

مبارک حسین مبارک

MORE BYمبارک حسین مبارک

    ہاتھ سے کیا رکھیں پیمانے کو ہم

    پھر کہاں پائیں گے میخانے کو ہم

    کر چکے برباد کاشانے کو ہم

    اب بسائیں چل کے ویرانے کو ہم

    پھر ہیں بیتاب ان کے گھر جانے کو ہم

    کچھ نہ سمجھے پہلے سمجھانے کو ہم

    اب کریں یاد آپ کے آنے کو ہم

    یا بتا کر راستہ جانے کو ہم

    کیسا یہ عالم مصیبت خانہ ہے

    دیکھو روتے تھے یہیں آنے کو ہم

    فصل گل میں بے ترے وہ دل کہاں

    کس کے ساتھ اب جائیں میخانے کو ہم

    شمع کو جلنے پہ جب پروا نہیں

    اب نہ جلنے دیں گے پروانے کو ہم

    وہ مقابل بھی تو ہوں آئینے کے

    دیکھ لیں گے ان کے شرمانے کو ہم

    آپ بھی سنتے جو اپنی وصف زلف

    طول دیتے اور افسانے کو ہم

    جام جم سے بھی اگر بدلے کوئی

    تو نہ بدلیں اپنے پیمانے کو ہم

    کیا ہجوم حسرت دل ساتھ تھا

    شہر سمجھے اپنے ویرانے کو ہم

    وہ اگر ہم سے نہ چلتے کوئی چال

    کچھ نہ کہتے ان کے اٹھلانے کو ہم

    دل کو لے آئے تھے کیوں بے فائدہ

    آپ کی زلفوں میں الجھانے کو ہم

    دیکھتے ہیں کس نگاہ یاس سے

    اس زمانے کے بدل جانے کو ہم

    اے مبارکؔ ان کا تھا جب تک خیال

    سنتے تھے کچھ سب کے سمجھانے کو ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے