Font by Mehr Nastaliq Web

میں ہجر میں اس دل کا ہوں غمخوار کہاں تک

مبارک حسین مبارک

میں ہجر میں اس دل کا ہوں غمخوار کہاں تک

مبارک حسین مبارک

MORE BYمبارک حسین مبارک

    میں ہجر میں اس دل کا ہوں غمخوار کہاں تک

    بیمار کرے خدمتِ بیمار کہاں تک

    کاٹیں گے گلا ابروئے خمدار کہاں تک

    کام اپنا کرے گی تری تلوار کہاں تک

    یا رب یہ نئی حسرتِ دیدار کہاں تک

    فرقت میں کروں صبر میں بے یار کہاں تک

    اب گھر سے نہ نکلے گا وہ دلدار کہاں تک

    کیوں یاس یہ محرومیِ دیدار کہاں تک

    کچھ زخم تو پھر تازہ ہوں دیکھا نہیں جاتا

    اے دل ترا اجڑا رہے گلزار کہاں تک

    مدت سے تو فرقت میں اسی ڈھب کی ہے ایذا

    بے موت مرے عاشق بیمار کہاں تک

    سب کہہ چکے الفت میں یہ دل کچھ نہیں سنتا

    ناداں کو بنائے کوئی ہشیار کہاں تک

    ہر دم کی تو نفرت یہ مری جاں نہیں اچھی

    رہیے گا مری شکل سے بے زار کہاں تک

    ہر کوچے میں جب ہے مری مظلومی کا قصہ

    جائیں گے عدالت میں نہ سرکار کہاں تک

    سب مکر و فریب آ گئی اب اپنی سمجھ میں

    تو چال کرے گا بت عیار کہاں تک

    ہر بات پہ بدظن اسی صورت جو رہا دل

    ہم آپ سے رکھیں گے سروکار کہاں تک

    آتی ہی نظر آگ سی آگ ایک جہاں میں

    اے نالۂ دل ہوگی شرر بار کہاں تک

    گو چور ہوں زخموں سے میں اے خنجر قاتل

    کیا جانے ابھی ہوں گے ترے وار کہاں تک

    محشر میں وہ خود پوچھیں گے اک ایک سے بڑھ کر

    آ پہنچے ہیں میرے وہ دل افگار کہاں تک

    ہر وقت وہاں جا کے جو کرتے ہیں خوشامد

    ہوں گے وہ مبارکؔ کے طرف دار کہاں تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے