میں ہجر میں اس دل کا ہوں غمخوار کہاں تک
میں ہجر میں اس دل کا ہوں غمخوار کہاں تک
بیمار کرے خدمتِ بیمار کہاں تک
کاٹیں گے گلا ابروئے خمدار کہاں تک
کام اپنا کرے گی تری تلوار کہاں تک
یا رب یہ نئی حسرتِ دیدار کہاں تک
فرقت میں کروں صبر میں بے یار کہاں تک
اب گھر سے نہ نکلے گا وہ دلدار کہاں تک
کیوں یاس یہ محرومیِ دیدار کہاں تک
کچھ زخم تو پھر تازہ ہوں دیکھا نہیں جاتا
اے دل ترا اجڑا رہے گلزار کہاں تک
مدت سے تو فرقت میں اسی ڈھب کی ہے ایذا
بے موت مرے عاشق بیمار کہاں تک
سب کہہ چکے الفت میں یہ دل کچھ نہیں سنتا
ناداں کو بنائے کوئی ہشیار کہاں تک
ہر دم کی تو نفرت یہ مری جاں نہیں اچھی
رہیے گا مری شکل سے بے زار کہاں تک
ہر کوچے میں جب ہے مری مظلومی کا قصہ
جائیں گے عدالت میں نہ سرکار کہاں تک
سب مکر و فریب آ گئی اب اپنی سمجھ میں
تو چال کرے گا بت عیار کہاں تک
ہر بات پہ بدظن اسی صورت جو رہا دل
ہم آپ سے رکھیں گے سروکار کہاں تک
آتی ہی نظر آگ سی آگ ایک جہاں میں
اے نالۂ دل ہوگی شرر بار کہاں تک
گو چور ہوں زخموں سے میں اے خنجر قاتل
کیا جانے ابھی ہوں گے ترے وار کہاں تک
محشر میں وہ خود پوچھیں گے اک ایک سے بڑھ کر
آ پہنچے ہیں میرے وہ دل افگار کہاں تک
ہر وقت وہاں جا کے جو کرتے ہیں خوشامد
ہوں گے وہ مبارکؔ کے طرف دار کہاں تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.