Font by Mehr Nastaliq Web

تماشا گاہِ دنیا میں نظر آئے عجیب ایسے

محمد آصف نوری

تماشا گاہِ دنیا میں نظر آئے عجیب ایسے

محمد آصف نوری

MORE BYمحمد آصف نوری

    تماشا گاہِ دنیا میں نظر آئے عجیب ایسے

    جو اپنے ہیں مگر لگتے ہیں غیروں کے قریب ایسے

    دنوں کے پھیر نے چہروں کے سارے رنگ بدلے ہیں

    بدلتے وقت کے ہمراہ بدلے ہیں حبیب ایسے

    منافق ہیں مگر تہذیب کا چولہ پہنتے ہیں

    ترے شہرِ سخن میں ہیں کئی عالی خطیب ایسے

    جو خود اپنے ہی سائے سے ہراساں ہیں زمانے میں

    وہ ہم کو بانٹتے پھرتے ہیں اب صبر و شکیب ایسے

    وفاداری کی باتیں اب فقط لفظوں کا سودا ہیں

    سخن فہموں میں آصفؔ اب کہاں اہلِ نصیب ایسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے