تماشا گاہِ دنیا میں نظر آئے عجیب ایسے
تماشا گاہِ دنیا میں نظر آئے عجیب ایسے
جو اپنے ہیں مگر لگتے ہیں غیروں کے قریب ایسے
دنوں کے پھیر نے چہروں کے سارے رنگ بدلے ہیں
بدلتے وقت کے ہمراہ بدلے ہیں حبیب ایسے
منافق ہیں مگر تہذیب کا چولہ پہنتے ہیں
ترے شہرِ سخن میں ہیں کئی عالی خطیب ایسے
جو خود اپنے ہی سائے سے ہراساں ہیں زمانے میں
وہ ہم کو بانٹتے پھرتے ہیں اب صبر و شکیب ایسے
وفاداری کی باتیں اب فقط لفظوں کا سودا ہیں
سخن فہموں میں آصفؔ اب کہاں اہلِ نصیب ایسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.