Font by Mehr Nastaliq Web

نہیں رہتے ہیں کیوں ہم چاہیے ہم کو جہاں رہنا

محمد احمد پرتاپ گڑھی

نہیں رہتے ہیں کیوں ہم چاہیے ہم کو جہاں رہنا

محمد احمد پرتاپ گڑھی

MORE BYمحمد احمد پرتاپ گڑھی

    نہیں رہتے ہیں کیوں ہم چاہیے ہم کو جہاں رہنا

    کوئی رہنے میں رہنا ہے یہاں رہنا وہاں رہنا

    قیامت ہے ترے عاشق کا مجبورِ بیاں رہنا

    زباں رکھتے ہوئے بھی اللہ اللہ بے زباں رہنا

    مبارک تجھ کو اسرارِ کرم کا رازداں رہنا

    مبارک ہو زمیں پر تیرا بن کر آسماں رہنا

    کوئی بھی حال ہو ہر حال ہی میں شادماں رہنا

    حقیقت میں اسی کا نام ہے بس کامراں رہنا

    خرد اس راز سے واقف نہیں ہے حضرت ناصح

    محبت ہی سکھاتی ہے عیاں رہنا نہاں رہنا

    یہ فیضانِ محبت ہے یہ احسانِ محبت ہے

    سراپا داستاں ہوتے ہوئے بے داستاں رہنا

    یہی شان محبت ہے یہی آن محبت ہے

    انہیں کا ہو کے رہنا چاہے کچھ بھی ہو جہاں رہنا

    یہی ضبطِ محبت ہے یہی شرط محبت ہے

    تڑپنا رات دن اور اور پھر بھی بے آہ و فغاں رہنا

    یہ عرفانِ محبت ہے یہ برہانِ محبت ہے

    کہ سلطانِ جہاں ہو کر بھی بے نام و نشاں رہنا

    یہ معراجِ محبت ہے یہ اعجاز محبت ہے

    ہزاروں زخم کھا کر مسکرانا شادماں رہنا

    یہ عرفانِ محبت ہے یہ برہانِ محبت ہے

    کہ سلطانِ جہاں ہو کر بھی بے نام و نشاں رہنا

    ترے جامِ محبت کا یہ اک ادنی کرشمہ ہے

    سرِ دار عاشقوں کا مست ہو کر نغمہ خواں رہنا

    جو خوش قسمت ہیں ان کو ہی ملا کرتی ہے یہ دولت

    بہ فیضِ عشق صحرا میں بھی بن کر گلستاں رہنا

    نہ کوئی راہ پاجائے نہ کوئی غیر آ جائے

    حریمِ دل کا احمدؔ اپنے ہر دم پاسباں رہنا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے