Font by Mehr Nastaliq Web

نہ وہ ذوق ہے نہ وہ شوق ہے نہ وہ کیف ہے نہ سرور ہے

محمد احمد پرتاپ گڑھی

نہ وہ ذوق ہے نہ وہ شوق ہے نہ وہ کیف ہے نہ سرور ہے

محمد احمد پرتاپ گڑھی

MORE BYمحمد احمد پرتاپ گڑھی

    نہ وہ ذوق ہے نہ وہ شوق ہے نہ وہ کیف ہے نہ سرور ہے

    ہے ہر ایک چیز ہی بے مزا جو نظر سے اپنی تو دور ہے

    کبھی طاعتوں کا سرور ہے کبھی اعترافِ قصور ہے

    ہے ملک کو جس کی نہیں خبر وہ حضور میرا حضور ہے

    ترا ذکر ہے تری یاد ہے ترا نام تیرا پیام ہے

    ہے اگر نصیب تری رضا تو یہ ہجر جانِ حضور ہے

    تری یاد دل کی مرے دوا ترا نام روح کی ہے شفا

    ترا بھولنا مری موت ہے ترا ذکر حاصل طور ہے

    میں برا ہزار سہی مگر ہے کرم پہ تیرے مری نظر

    تو کریم ہے تو رحیم ہے مجھے ناز اس پہ ضرور ہے

    یہ کرم ہے خاص ترا کرم نہ فدا ہوں کس لیے تجھ پہ ہم

    تو نظر میں جب سے سما گیا نظر آتا نور ہی نور ہے

    یہ شرف ہے میرا بڑا اہم ترے درپہ میرا جو سر ہے خم

    رہوں دوستو! نہ میں کیوں چہ غم جو کرم کا ہوتا ظہور ہے

    ترے عشق میں میں فنا رہوں تری یاد ہی میں لگا رہوں

    تو کرم سے اپنے مجھے بچا! کہ یہ دور دورِ شرور ہے

    جو ہے اہلِ عشق کی ابتدا جو ہے اہلِ عشق کی انتہا

    میں بتاؤں احمدؔ بے نوا مرا اعتراف قصور ہے

    مأخذ :
    • کتاب : irfan-e-mohabbat (Pg. 107)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے