Font by Mehr Nastaliq Web

پتا ملے مرے رہنے کا کیا یہاں صیاد

محمد علی حسن

پتا ملے مرے رہنے کا کیا یہاں صیاد

محمد علی حسن

MORE BYمحمد علی حسن

    پتا ملے مرے رہنے کا کیا یہاں صیاد

    ہے شاخ طوبیٰ پہ جب اپنا آشیاں صیاد

    پھنسا جو زلف کے پھندے میں میرا طائر دل

    اڑے وہیں مرے ہوش و حواس و جاں صیاد

    یہ تنگ کرتی ہے کنج قفس میں اور مجھے

    ذرا نکلنے دے حسرت کو مہرباں صیاد

    تو ذبح کرنے کو کرتا ہے پر بتادے تو

    کہ رنج بعد مرے جائے گا کہاں صیاد

    جو ہم صفیر تھے ہوش و حواس و عقل و خرد

    سو اڑ گئے مرے اک رہ گئی یہ جاں صیاد

    قفس کی فکر نہیں اب رہی ہے ہم کو ذرا

    بدن کی رگ مرے تار نفس ہے یاں صیاد

    حواس خمسہ تو اڑ ہی چکے ہیں طائر وار

    جو مرغ روح اڑے پھر نہ آے یاں صیاد

    تڑپ تڑپ کے میں کیونکر نہ غل مچاؤں کہ

    کھلے ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

    تڑپ کے دام میں کب تک میں غل مچاتا رہوں

    گئے بہار میں سب مرے ہم زباں صیاد

    میں کیسے سمجھوں حسنؔ طائر خیال کو بھی

    کہیں نہ دام میں اس کو پھنسالے واں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے