پتا ملے مرے رہنے کا کیا یہاں صیاد
پتا ملے مرے رہنے کا کیا یہاں صیاد
ہے شاخ طوبیٰ پہ جب اپنا آشیاں صیاد
پھنسا جو زلف کے پھندے میں میرا طائر دل
اڑے وہیں مرے ہوش و حواس و جاں صیاد
یہ تنگ کرتی ہے کنج قفس میں اور مجھے
ذرا نکلنے دے حسرت کو مہرباں صیاد
تو ذبح کرنے کو کرتا ہے پر بتادے تو
کہ رنج بعد مرے جائے گا کہاں صیاد
جو ہم صفیر تھے ہوش و حواس و عقل و خرد
سو اڑ گئے مرے اک رہ گئی یہ جاں صیاد
قفس کی فکر نہیں اب رہی ہے ہم کو ذرا
بدن کی رگ مرے تار نفس ہے یاں صیاد
حواس خمسہ تو اڑ ہی چکے ہیں طائر وار
جو مرغ روح اڑے پھر نہ آے یاں صیاد
تڑپ تڑپ کے میں کیونکر نہ غل مچاؤں کہ
کھلے ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد
تڑپ کے دام میں کب تک میں غل مچاتا رہوں
گئے بہار میں سب مرے ہم زباں صیاد
میں کیسے سمجھوں حسنؔ طائر خیال کو بھی
کہیں نہ دام میں اس کو پھنسالے واں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.