Font by Mehr Nastaliq Web

آگ اک دل میں لگاتے تو کوئی بات بھی تھی

مخلص حیدرآبادی

آگ اک دل میں لگاتے تو کوئی بات بھی تھی

مخلص حیدرآبادی

MORE BYمخلص حیدرآبادی

    آگ اک دل میں لگاتے تو کوئی بات بھی تھی

    آنکھ سے آنکھ ملاتے تو کوئی بات بھی تھی

    چاند سورج سے کہاں روشنی ہوگی دل میں

    پیار کی شمع جلاتے تو کوئی بات بھی تھی

    جذبۂ شوق مرا اور سوا ہو جاتا

    تم مرے گھر کبھی آتے تو کوئی بات بھی تھی

    خونِ ناحق سے مرے، تم کو ہوا کیا حاصل؟

    اپنے دامن کو بچاتے تو کوئی بات بھی تھی

    نام رہ جاتا تمہارا بھی جہاں میں مخلصؔ

    کام کچھ کرکے دکھاتے تو کوئی بات بھی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے