Font by Mehr Nastaliq Web

گلشن میں جو گلشن کے پرستار اٹھے ہیں

عاصی گیاوی

گلشن میں جو گلشن کے پرستار اٹھے ہیں

عاصی گیاوی

گلشن میں جو گلشن کے پرستار اٹھے ہیں

صیاد سے وہ برسر پیکار اٹھے ہیں

جو تیری محبت کے طلب گار اٹھے ہیں

دنیا سے وہ ٹکرانے کو تیار اٹھے ہیں

مے خانے کو ساقی نہ اجڑنے کبھی دیں گے

اب سر سے کفن باندھ کے مے خوار اٹھے ہیں

پیمانہ بہ کف تھے جو کبھی بزم جہاں میں

ہاتھوں میں لئے اب وہی تلوار اٹھے ہیں

کتنے ہیں جو پی کر بھی نہیں بے خود و سرشار

ہم بے پیے مے خانہ سے سرشار اٹھے ہیں

اب سبزۂ بے گانہ کہاں اپنے وطن میں

پھولوں کی حفاظت کے لیے مے خوار اٹھے ہیں

مأخذ :
  • کتاب : دبستانِ عظیم آباد (Pg. 121)
  • مطبع : نکھار پریس مئو ناتھ بھنجن (1982)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے