Font by Mehr Nastaliq Web

یہ شرارے میرے سینہ سے نکلتے ہیں سدا

منشی نتھن لال

یہ شرارے میرے سینہ سے نکلتے ہیں سدا

منشی نتھن لال

MORE BYمنشی نتھن لال

    یہ شرارے میرے سینہ سے نکلتے ہیں سدا

    شہپر طائرِ افلاک کے جلتے ہیں سدا

    تنگ ہے دستِ جنوں سے یہ گریباں میرا

    چاک کے پاؤں سے پامال ہے داماں میرا

    عشق کا بادیہ جانکاہ ہے رہرو اس کے

    سر کے بل مثلِ قلم اس جگہ چلتے ہیں سدا

    اس کے دانتوں کا جو رہتا ہے تصور بہجتؔ

    ہم گھر مثلِ صدف منہ سے اگلتے ہیں سدا

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ آثار الشعرائے ہنود (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے