یہ شرارے میرے سینہ سے نکلتے ہیں سدا
یہ شرارے میرے سینہ سے نکلتے ہیں سدا
شہپر طائرِ افلاک کے جلتے ہیں سدا
تنگ ہے دستِ جنوں سے یہ گریباں میرا
چاک کے پاؤں سے پامال ہے داماں میرا
عشق کا بادیہ جانکاہ ہے رہرو اس کے
سر کے بل مثلِ قلم اس جگہ چلتے ہیں سدا
اس کے دانتوں کا جو رہتا ہے تصور بہجتؔ
ہم گھر مثلِ صدف منہ سے اگلتے ہیں سدا
- کتاب : تذکرہ آثار الشعرائے ہنود (Pg. 28)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.