Sufinama

اپنے دیوانے پہ کب ان کی نظر ہوتی ہے

اسیر محمدآبادی

اپنے دیوانے پہ کب ان کی نظر ہوتی ہے

اسیر محمدآبادی

MORE BYاسیر محمدآبادی

    اپنے دیوانے پہ کب ان کی نظر ہوتی ہے

    کب انہیں درد کے ماروں کی خبر ہوتی ہے

    رات فرقت میں بہر طور بسر ہوتی ہے

    آپ کیا جانیں کہ کس طرح سحر ہوتی ہے

    کان آہٹ پہ نظر جانب در ہوتی ہے

    کیفیت شام سے یہ تا بہ سحر ہوتی ہے

    یاس کے ساتھ ہی رہتی ہے امید موہوم

    ڈوبنے والوں کی ساحل پہ نظر ہوتی ہے

    زلف و رخ ہی کے تصور میں رہا کرتا ہوں

    عمر کٹتی ہے یوں ہی شام و سحر ہوتی ہے

    منزل عشق کو آسان سمجھتے ہو اسیرؔ

    یہ تو دشوار بہت راہ گزر ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 53)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY