مرنے کے لیے جو مر رہے ہیں
مرنے کے لیے جو مر رہے ہیں
سامانِ حیات کر رہے ہیں
دنیا میں یہی تو کر رہے ہیں
جینے کی ہوس میں مر رہے ہیں
وہ دن گئے ڈھونڈتے تھے تم کو
اب اپنی تلاش کر رہے ہیں
دشمن کا کوئی خطرہ نہیں ہے ہم کو
یاروں کے کرم سے ڈر رہے ہیں
ہم دام حیات میں الجھ کر
اللہ کو یاد کر رہے ہیں
کوئی بھی نہیں شریکِ منزل
کس راہ سے ہم گزر رہے ہیں
وہ ہیں کہ ملے ہوئے ہیں ہم سے
ہم ہیں کہ تلاش کر رہے ہیں
مسلمؔ ہیں وہی تو واقف راز
جو آپ سے بے خبر رہے ہیں
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد نویں (Pg. 276)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.