Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

مضطرب ہو کر کوئی با چشم تر آ ہی گیا

عزیز وارثی دہلوی

مضطرب ہو کر کوئی با چشم تر آ ہی گیا

عزیز وارثی دہلوی

مضطرب ہو کر کوئی با چشم تر آ ہی گیا

آج دریائے محبت جوش پر آ ہی گیا

آج وقت شام وہ جان سحر آ ہی گیا

مرحبا اے زیست نالوں میں اثر آ ہی گیا

آہ میں اے ذوق نظارہ اثر آ ہی گیا

تھا جو پردے میں وہ بے پردہ نظر آ ہی گیا

اقتضائے دل کے آگے ضبط کی چلتی نہیں

تیری محفل میں نہ آنا تھا مگر آ ہی گیا

ذوق بے پایاں کے قرباں جلوۂ حسن ازل

جس طرف نظریں اٹھیں مجھ کو نظر آ ہی گیا

میں نے پینے کا ارادہ ہی کیا تھا اس طرف

ساغر صہبا لیے ساقی ادھر آ ہی گیا

اس قدر رویا ہے کوئی ہجر جاناں میں عزیزؔ

اشک بن کر آنکھ میں خون جگر آ ہی گیا

مأخذ :
  • کتاب : کلیات عزیز (Pg. 35)
  • Author : عزیز وارثی
  • مطبع : مرکزی پنٹرز، چوڑی والان، دہلی (1993)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے