Font by Mehr Nastaliq Web

نہ بہک سکا وہ واقف جو ہے تیری رہ گزر سے

جوہر وارثی

نہ بہک سکا وہ واقف جو ہے تیری رہ گزر سے

جوہر وارثی

MORE BYجوہر وارثی

    دلچسپ معلومات

    مشاعرہ لکھنؤ

    نہ بہک سکا وہ واقف جو ہے تیری رہ گزر سے

    نہ سنبھل سکا کبھی وہ جو گرا تری نظر سے

    نہ یہ سوزش جگر سے نہ یہ ورد کے اثر سے

    یہ فغاں مرے لبوں پر ہے مفارقت کے ڈر سے

    تیرے صدقے حسن جاناں یہ کہاں کا فیصلہ ہے

    جسے دید کی ہو حسرت وہی دیکھنے کو ترسے

    مرے آنسوؤں کے قطرے ہیں چراغ راہ منزل

    انہیں روشنی ملی ہے تپش دل و جگر سے

    مرا سجدۂ محبت کبھی اس طرح ادا ہو

    کہ مری جبیں جھکے جب نہ اٹھے تمہارے در سے

    یہ دعا ہے سر پہ رکھ کر تری خاک آستاں کو

    کہ یہ میرا تاج شاہی نہ جدا ہو مرے سر سے

    تیرے میکدے میں ساقی نہیں جب رواج ساغر

    تو شعور بادہ نوشی ہو عطا مجھے نظر سے

    اسے خلد نے پکارا اسے روحوں نے بلایا

    مگر اپنی دھن میں جوہرؔ نہ اٹھا تمہارے در سے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 157)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے