اور اجاگر نئی ہونا ہے کھلنا ہے کم کم درویش
اور اجاگر نئی ہونا ہے کھلنا ہے کم کم درویش
لوگ بہت چالاک ہیں سو تو باتیں کر مبہم درویش
ہم کو سورج کے سائے میں چلنا ہے سو ذکر نہ کر
کیا بھوری کیا کالی زلفیں کیا زلفوں کے خم درویش
اس بستی کے لوگ ہوس کے بت کی پوجا کرتے ہیں
آؤ نمازِ عشق کریں اس بستی میں قائم درویش
اک دوجے سے مطلب نئی پر اپنا اپنا کام کریں
جوبن کی خیرات لٹانے والا تو اور ہم درویش
رات اک چور میرے کمرے سے چند کتابیں لے بھاگا
حلیے ولیے سے تو سائیں لگتا تھا اک دم درویش
گاؤں میں جوگی برگد کے نیچے بیٹھا ہے دھیان مگن
شہر میں جوگن چھم چھم کرتی پھرتی ہے دھم دھم درویش
ان کو اپنی منوانی ہے اور یہ سب کی سنتے ہیں
یعنی خدا ہیں مولوی صاحب اور میاں آدم درویش
درویشی نے دل دریا میں ماری چھلانگ اور ڈوب گئی
سارے پاگل چیخ رہے ہیں ہم درویش اور ہم درویش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.