Font by Mehr Nastaliq Web

اور اجاگر نئی ہونا ہے کھلنا ہے کم کم درویش

نعیم سرمد

اور اجاگر نئی ہونا ہے کھلنا ہے کم کم درویش

نعیم سرمد

MORE BYنعیم سرمد

    اور اجاگر نئی ہونا ہے کھلنا ہے کم کم درویش

    لوگ بہت چالاک ہیں سو تو باتیں کر مبہم درویش

    ہم کو سورج کے سائے میں چلنا ہے سو ذکر نہ کر

    کیا بھوری کیا کالی زلفیں کیا زلفوں کے خم درویش

    اس بستی کے لوگ ہوس کے بت کی پوجا کرتے ہیں

    آؤ نمازِ عشق کریں اس بستی میں قائم درویش

    اک دوجے سے مطلب نئی پر اپنا اپنا کام کریں

    جوبن کی خیرات لٹانے والا تو اور ہم درویش

    رات اک چور میرے کمرے سے چند کتابیں لے بھاگا

    حلیے ولیے سے تو سائیں لگتا تھا اک دم درویش

    گاؤں میں جوگی برگد کے نیچے بیٹھا ہے دھیان مگن

    شہر میں جوگن چھم چھم کرتی پھرتی ہے دھم دھم درویش

    ان کو اپنی منوانی ہے اور یہ سب کی سنتے ہیں

    یعنی خدا ہیں مولوی صاحب اور میاں آدم درویش

    درویشی نے دل دریا میں ماری چھلانگ اور ڈوب گئی

    سارے پاگل چیخ رہے ہیں ہم درویش اور ہم درویش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے