Font by Mehr Nastaliq Web

کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا

نعیم الدین مرادآبادی

کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا

    مرتے مرتے بھی انتظار رہا

    بزمِ اعدا میں رات جاگے ہیں

    آنکھ میں شام تک خمار رہا

    آنکھ وہ کیا جو اشک بار رہے

    دل ہی کیا وہ جو بے قرار رہا

    آنکھ وہ دید سے جو اشک بار رہے

    دل جو دلبر سے ہمکنار رہا

    آپ پہلو میں دشمنوں کے رہے

    میری آنکھوں میں انتظار رہا

    نہ وفا کی جناب نے مجھ سے

    نہ مجھے دل پہ اختیار رہا

    روتے روتے گزر گئیں راتیں

    دل بے صبر بے قرار رہا

    انتہا ہے سیاہ بختی کی

    دل گرفتارِ زلف یار رہا

    ہائے منعمؔ کی بے کسی افسوس

    نزع میں بھی اشک بار رہا

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 05)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے