کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا
کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا
مرتے مرتے بھی انتظار رہا
بزمِ اعدا میں رات جاگے ہیں
آنکھ میں شام تک خمار رہا
آنکھ وہ کیا جو اشک بار رہے
دل ہی کیا وہ جو بے قرار رہا
آنکھ وہ دید سے جو اشک بار رہے
دل جو دلبر سے ہمکنار رہا
آپ پہلو میں دشمنوں کے رہے
میری آنکھوں میں انتظار رہا
نہ وفا کی جناب نے مجھ سے
نہ مجھے دل پہ اختیار رہا
روتے روتے گزر گئیں راتیں
دل بے صبر بے قرار رہا
انتہا ہے سیاہ بختی کی
دل گرفتارِ زلف یار رہا
ہائے منعمؔ کی بے کسی افسوس
نزع میں بھی اشک بار رہا
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 05)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.