نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں
نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں
یہ بھی کوئی گناہ کرتے ہیں
پاؤں زخمی ہوئے تو ہونے دو
سر کو ہم وقفِ راہ کرتے ہیں
آپ کے ہجر میں اسیر الم
گریہ اے بادشاہ کرتے ہیں
دور دوری کا دور ہوجائے
یہ دعا صبح گاہ کرتے ہیں
دل لگانا کسی سے لا حاصل
وہ کسی سے نباہ کرتے ہیں
گرچہ عاصی ہیں تیری رحمت کے
ہم امید اے الٰہ کرتے ہیں
نا امیدی ہے کام کافر کا
یاس وہ روسیاہ کرتے ہیں
آپ کے غم میں جان دی ہم نے
آپ کو ہم گواہ کرتے ہیں
ان کے حسنِ جمیل کی توصیف
انجم و مہر و ماہ کرتے ہیں
حالِ دل ان سے کیا کہے کوئی
سن کے وہ واہ واہ کرتے ہیں
حسنِ ناپائیدار پر یہ غرور
بت ستم بے پناہ کرتے ہیں
عشق کرتے ہیں جو پری رو سے
نامہ اپنا سیاہ کرتے ہیں
حسنِ فانی بھی حسن ہے کوئی
عمر کو کیوں تباہ کرتے ہیں
حسنِ باطل پہ ناز اور غمزہ
کیوں یہ نامہ سیاہ کرتے ہیں
آنکھ رکھتے ہیں جو نعیم الدینؔ
دل سے عشقِ الٰہ کرتے ہیں
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 19)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.