Font by Mehr Nastaliq Web

نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں

نعیم الدین مرادآبادی

نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں

    یہ بھی کوئی گناہ کرتے ہیں

    پاؤں زخمی ہوئے تو ہونے دو

    سر کو ہم وقفِ راہ کرتے ہیں

    آپ کے ہجر میں اسیر الم

    گریہ اے بادشاہ کرتے ہیں

    دور دوری کا دور ہوجائے

    یہ دعا صبح گاہ کرتے ہیں

    دل لگانا کسی سے لا حاصل

    وہ کسی سے نباہ کرتے ہیں

    گرچہ عاصی ہیں تیری رحمت کے

    ہم امید اے الٰہ کرتے ہیں

    نا امیدی ہے کام کافر کا

    یاس وہ روسیاہ کرتے ہیں

    آپ کے غم میں جان دی ہم نے

    آپ کو ہم گواہ کرتے ہیں

    ان کے حسنِ جمیل کی توصیف

    انجم و مہر و ماہ کرتے ہیں

    حالِ دل ان سے کیا کہے کوئی

    سن کے وہ واہ واہ کرتے ہیں

    حسنِ ناپائیدار پر یہ غرور

    بت ستم بے پناہ کرتے ہیں

    عشق کرتے ہیں جو پری رو سے

    نامہ اپنا سیاہ کرتے ہیں

    حسنِ فانی بھی حسن ہے کوئی

    عمر کو کیوں تباہ کرتے ہیں

    حسنِ باطل پہ ناز اور غمزہ

    کیوں یہ نامہ سیاہ کرتے ہیں

    آنکھ رکھتے ہیں جو نعیم الدینؔ

    دل سے عشقِ الٰہ کرتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 19)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے