وہ جلوہ جس قدر نزدیک تر ہو دور ہو جائے
وہ جلوہ جس قدر نزدیک تر ہو دور ہو جائے
اگر دل میں سمائے آنکھ سے مستور ہو جائے
اگر حسن نظر پر عشق بھی مغرور ہو جائے
تو اک دن حسن بڑھ کر عشق سے مجبور ہو جائے
یقیناً ان کو دشت بے خودی میں ڈھونڈھ لیتا ہے
مگر انسان جب اپنے سے کوسوں دور ہو جائے
تغافل کی جلو میں التفات خاص ہوتا ہے
وہ جس کو مے نہ دیں وہ بے پیے مخمور ہو جائے
محبت کی حدوں میں آگیا بس یوں سمجھ لیجے
جہاں بھی دل کے ہاتھوں آدمی مجبور ہو جائے
یہ دنیا ایک عکس جلوہ گاہ حسن مخفی ہے
اگر پردے نہ ہوں یہ بزم جل کر طور ہو جائے
کسی صورت سے نخشبؔ دل کو یکسوئی تو حاصل ہو
وہ جلوہ عادتاً کیوں فطرتاً مستور ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.