Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

پہلو نشیں پھر آج وہ رنگیں ادا ہوا

نخشب جارچوی

پہلو نشیں پھر آج وہ رنگیں ادا ہوا

نخشب جارچوی

MORE BYنخشب جارچوی

    پہلو نشیں پھر آج وہ رنگیں ادا ہوا

    اپنے مقام پر ہے زمانہ رکا ہوا

    دنیا کے واسطے ہوں تماشہ بنا ہوا

    کیا اب بھی مجھ سے فرض محبت ادا ہوا

    بزم ازل کجا چمن رنگ و بو کجا

    آیا تجھے کہاں سے کہاں ڈھونڈھتا ہوا

    طول فراق مصلحت حسن ہی سہی

    اب اس کا ذکر چھوڑیئے جو کچھ ہوا ہوا

    تجدید عہد اور یہ بے وجہ اضطراب

    پھر سے بھڑک اٹھا وہی شعلہ دبا ہوا

    جب تک وہ دیکھتے رہے تسکین سی رہی

    ان کی نظر ہٹی تھی کہ پھر درد سا ہوا

    بیٹھا میں بزم ناز کے انداز دیکھ کر

    اٹھا بس ایک ان کی نظر دیکھتا ہوا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے