Font by Mehr Nastaliq Web

خطِ لوحِ جبیں شاہد ہے حق سے تیری قربت کا

نواب رستم علی

خطِ لوحِ جبیں شاہد ہے حق سے تیری قربت کا

نواب رستم علی

MORE BYنواب رستم علی

    خطِ لوحِ جبیں شاہد ہے حق سے تیری قربت کا

    سبِ وصلت سے بڑھ جائے نہ کیوں کر روز رحلت کا

    کرامت منکروں کو بعد رحلت کے بھی دکھلائی

    دلِ عالم پہ سکہ پڑ گیا تیری ولایت کا

    ہوا واصل بحق کہتے ہیں جتنے صاحبِ دل ہیں

    جو صحرا تھا طریقت کا جو دریا تھا حقیقت کا

    تجلی ہے عجب روضہ میں تیرے اے معین الدیں

    تماشا ایک عالم دیکھتا ہے تیری قدرت کا

    جب ایسا ذی شرف ذی مرتبہ موجود ہو اس جا

    سماں کیونکر نہ ہو اجمیر کی گلیوں میں جنت کا

    اگر چہ دور رہتا ہے پہ ہردم پاس ہے رستمؔ

    پھرا کرتا ہے آنکھوں میں تصور تیری صورت کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے