خطِ لوحِ جبیں شاہد ہے حق سے تیری قربت کا
خطِ لوحِ جبیں شاہد ہے حق سے تیری قربت کا
سبِ وصلت سے بڑھ جائے نہ کیوں کر روز رحلت کا
کرامت منکروں کو بعد رحلت کے بھی دکھلائی
دلِ عالم پہ سکہ پڑ گیا تیری ولایت کا
ہوا واصل بحق کہتے ہیں جتنے صاحبِ دل ہیں
جو صحرا تھا طریقت کا جو دریا تھا حقیقت کا
تجلی ہے عجب روضہ میں تیرے اے معین الدیں
تماشا ایک عالم دیکھتا ہے تیری قدرت کا
جب ایسا ذی شرف ذی مرتبہ موجود ہو اس جا
سماں کیونکر نہ ہو اجمیر کی گلیوں میں جنت کا
اگر چہ دور رہتا ہے پہ ہردم پاس ہے رستمؔ
پھرا کرتا ہے آنکھوں میں تصور تیری صورت کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.