Font by Mehr Nastaliq Web

یہ تفرقہ زلف و رخ یار کہاں تک

نظیر عظیم آبادی

یہ تفرقہ زلف و رخ یار کہاں تک

نظیر عظیم آبادی

MORE BYنظیر عظیم آبادی

    یہ تفرقہ زلف و رخ یار کہاں تک

    آپس میں لڑیں کافر و دیندار کہاں تک

    دیکھا بھی کھنچا ابروئے خمدار کہاں تک

    اب ہوگی کشیدہ تری تلوار کہاں تک

    پھونکے گی نہ تو خانۂ اغیار کہاں تک

    در گذرے گی اے آہ شرر بار کہاں تک

    ہر لذتِ دنیا کو جب اک روز فنا ہے

    لوٹیں گے مزے وصل کی اغیار کہاں تک

    سر سے تو قدم تک ہے غریق یم خجلت

    ڈوبے گا عرق میں یہ گنہگار کہاں تک

    رہ رہ کے تو یار آتی ہے اس تیغ ادا کی

    زخموں کا مزہ لے یہ دل افگار کہاں تک

    اے برہمنو دل میں بھی جاہے تو اتارو

    ہر دم رہے گردن ہی میں زنار کہاں تک

    پہنچانے کو احباب تو آئے مجھے تاقبر

    ہمراہ جنازے کے تھا وہ یار کہاں تک

    جب بحرِ غمِ عشق کا پیدا نہیں ساحل

    ہاتھ اس میں لگائے کوئی دو چار کہاں تک

    اب کوچۂ الفت میں قدم اٹھ نہیں سکتے

    اس راہ میں ہمت میں گیا ہار کہاں تک

    ڈھونڈو تو نظیرؔ اس کو ابھی ایک جہاں میں

    تم کو نہ ملے گا وہ طرح دار کہاں تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے