یہ تفرقہ زلف و رخ یار کہاں تک
یہ تفرقہ زلف و رخ یار کہاں تک
آپس میں لڑیں کافر و دیندار کہاں تک
دیکھا بھی کھنچا ابروئے خمدار کہاں تک
اب ہوگی کشیدہ تری تلوار کہاں تک
پھونکے گی نہ تو خانۂ اغیار کہاں تک
در گذرے گی اے آہ شرر بار کہاں تک
ہر لذتِ دنیا کو جب اک روز فنا ہے
لوٹیں گے مزے وصل کی اغیار کہاں تک
سر سے تو قدم تک ہے غریق یم خجلت
ڈوبے گا عرق میں یہ گنہگار کہاں تک
رہ رہ کے تو یار آتی ہے اس تیغ ادا کی
زخموں کا مزہ لے یہ دل افگار کہاں تک
اے برہمنو دل میں بھی جاہے تو اتارو
ہر دم رہے گردن ہی میں زنار کہاں تک
پہنچانے کو احباب تو آئے مجھے تاقبر
ہمراہ جنازے کے تھا وہ یار کہاں تک
جب بحرِ غمِ عشق کا پیدا نہیں ساحل
ہاتھ اس میں لگائے کوئی دو چار کہاں تک
اب کوچۂ الفت میں قدم اٹھ نہیں سکتے
اس راہ میں ہمت میں گیا ہار کہاں تک
ڈھونڈو تو نظیرؔ اس کو ابھی ایک جہاں میں
تم کو نہ ملے گا وہ طرح دار کہاں تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.