Font by Mehr Nastaliq Web

پاؤں نہ دور دور بھی اپنی خبر کو میں

حیرت شاہ وارثی

پاؤں نہ دور دور بھی اپنی خبر کو میں

حیرت شاہ وارثی

پاؤں نہ دور دور بھی اپنی خبر کو میں

پھر ڈھونڈھتا ہوں آپ کی پہلی نظر کو میں

اک اک نگہ میں سینکڑوں تیروں کے وار ہیں

رکھوں کہاں سنبھال کے قلب و جگر کو میں

ایسے گئے کہ زندگی کی شام ہو گئی

لاؤں کہاں سے ڈھونڈ کے گزری سحر کو میں

مدت میں جلوہ گر ہوئے بالائے بام وہ

اس چاند کو میں دیکھوں کہ دیکھوں قمر کو میں

حیرتؔ نگاہ یار نے نہ جانے کیا کیا

حیراں ہوں اب کہاں رہوں جاؤں کدھر کو میں

مأخذ :
  • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 129)
  • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے