کر رہا ہے مجھ سے کوئی گفتگو میری طرح
کر رہا ہے مجھ سے کوئی گفتگو میری طرح
جیسے خود بھی ہے اسیر رنگ و بو میری طرح
میں مجسم آرزو تھا میرے مٹ جانے کے بعد
پھر نہ ابھرا کوئی نقشِ آرزو میری طرح
حسنِ تاثیرِ نظر ہے فیض تقدیس نظر
اب ہے اک عالم کو ذوقِ جستجو میری طرح
منزلِ غم سے گزر جا حسن کے شکوہ گزار
آرزو کر او خراب آرزو میری طرح
مجھ سے لے درسِ محبت میرے دل سے درد مانگ
دیکھنا گر چاہتا ہے مجھ کو تو میری طرح
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 499)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.