Font by Mehr Nastaliq Web

کر رہا ہے مجھ سے کوئی گفتگو میری طرح

قابل اکبرآبادی

کر رہا ہے مجھ سے کوئی گفتگو میری طرح

قابل اکبرآبادی

MORE BYقابل اکبرآبادی

    کر رہا ہے مجھ سے کوئی گفتگو میری طرح

    جیسے خود بھی ہے اسیر رنگ و بو میری طرح

    میں مجسم آرزو تھا میرے مٹ جانے کے بعد

    پھر نہ ابھرا کوئی نقشِ آرزو میری طرح

    حسنِ تاثیرِ نظر ہے فیض تقدیس نظر

    اب ہے اک عالم کو ذوقِ جستجو میری طرح

    منزلِ غم سے گزر جا حسن کے شکوہ گزار

    آرزو کر او خراب آرزو میری طرح

    مجھ سے لے درسِ محبت میرے دل سے درد مانگ

    دیکھنا گر چاہتا ہے مجھ کو تو میری طرح

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 499)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے