Font by Mehr Nastaliq Web

اب نہ تم گردش حالات پر تنقید کرو

قیصر رتناگیروی

اب نہ تم گردش حالات پر تنقید کرو

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    اب نہ تم گردش حالات پر تنقید کرو

    ہو سکے تو میرے جذبات پر تنقید کرو

    میں نے دشمن کو بھی دشمن نہیں سمجھا اب تک

    دوستو میرے خیالات پہ تنقید کرو

    میری ہر بات میں ہے بات زمانے بھر کی

    آؤ سمجھو میری ہر بات پہ تنقید کرو

    ہجر کی رات ابھی تم نے کہاں دیکھی ہے

    رات کٹ جائے تو اس رات پہ تنقید کرو

    پہلے تم میرے فسانے کی حقیقت سمجھو

    بعد میں ساری حکایات پہ تنقید کرو

    یہ تو سچ ہے تمہیں تنقید کا حق ہے لیکن

    خود کو سمجھو تو میری ذات پہ تنقید کرو

    ہو سکے تم سے تو تہذیب و تمدن کی قسم

    آج کی عام روایات پر تنقید کرو

    اس تعصب کے اندھیروں سے تو نکلو باہر

    پھر کبھی دن تو کبھی رات پہ تنقید کرو

    پہلے احکام مشیت کو سمجھ کر قیصرؔ

    خلد اور خلد کی سوغات پہ تنقید کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے