جو الٹی ہے نقاب اس گلبدن نے روئے روشن سے
جو الٹی ہے نقاب اس گلبدن نے روئے روشن سے
مثال ہوش عاشق رنگ اڑا جاتا ہے گلشن سے
شبیہیں گل رخوں کی دیکھ کر صرف اب تو جیتا ہوں
مری شمع بقا روشن ہے تصویروں کے روغن سے
نگاہ غیر سے خلوت میں بھی ان کو جو شرم آئی
اڑا مرغ بصارت آشیانِ چشم روزن سے
دلیل افلاس کی ہے عشق کے سائے میں آ جانا
گرایا زر گلوں نے آخر کار اپنے دامن سے
یہ تو ہے اے گلِ تر یا بہارِ نو مجسم ہے
یہ کلیاں کھل پڑیں یا گل ہیں لیٹے تیرے دامن سے
یہ حسن و عشق اے جانِ چمن تیرے ہی جلوے ہیں
کہ بلبل گل سے لپٹی گل ہیں لپٹے تیرے دامن سے
قتیلؔ آساں نہیں خونی جگر سے نوک کی لینا
کہ قرب گل پہ بھی الجھا نہ کوئی خار دامن سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.