Font by Mehr Nastaliq Web

جو الٹی ہے نقاب اس گلبدن نے روئے روشن سے

قتیل داناپوری

جو الٹی ہے نقاب اس گلبدن نے روئے روشن سے

قتیل داناپوری

MORE BYقتیل داناپوری

    جو الٹی ہے نقاب اس گلبدن نے روئے روشن سے

    مثال ہوش عاشق رنگ اڑا جاتا ہے گلشن سے

    شبیہیں گل رخوں کی دیکھ کر صرف اب تو جیتا ہوں

    مری شمع بقا روشن ہے تصویروں کے روغن سے

    نگاہ غیر سے خلوت میں بھی ان کو جو شرم آئی

    اڑا مرغ بصارت آشیانِ چشم روزن سے

    دلیل افلاس کی ہے عشق کے سائے میں آ جانا

    گرایا زر گلوں نے آخر کار اپنے دامن سے

    یہ تو ہے اے گلِ تر یا بہارِ نو مجسم ہے

    یہ کلیاں کھل پڑیں یا گل ہیں لیٹے تیرے دامن سے

    یہ حسن و عشق اے جانِ چمن تیرے ہی جلوے ہیں

    کہ بلبل گل سے لپٹی گل ہیں لپٹے تیرے دامن سے

    قتیلؔ آساں نہیں خونی جگر سے نوک کی لینا

    کہ قرب گل پہ بھی الجھا نہ کوئی خار دامن سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے