Font by Mehr Nastaliq Web

نقاب سرکی ہے صرف ابھی تو وہ شکل زیب نظر بھی ہوگی

قتیل داناپوری

نقاب سرکی ہے صرف ابھی تو وہ شکل زیب نظر بھی ہوگی

قتیل داناپوری

MORE BYقتیل داناپوری

    نقاب سرکی ہے صرف ابھی تو وہ شکل زیب نظر بھی ہوگی

    ابھی تو گویا سحر ہوئی ہے اٹھے گا دن دوپہر بھی ہوگی

    فروتنی ہے کمال انساں اسی میں ثمرہ ہے زندگی کا

    جو شاخ جھک کر زمیں پر آئے یقیں ہے وہ بارور بھی ہوگی

    بلا ہے یہ اور بلا بھی کالی چڑھائیے اس کو سر نہ اتنا

    یہ زلف شبگوں قدم بھی لےگی الجھ پڑے تو یہ سر بھی ہوگی

    جفا جو سہہ کر وفا کرے گا وصال ہوگا اسی کا حصہ

    وہ شاخ جس پر تبر چلے گا بڑھے گی بھی پُر ثمر بھی ہوگی

    کمال کا تو ہوں میں بھی قائل محامد و فضل کل مسلم

    مگر یہ واعظ ہیں بھائی ناصح ضرور تھوڑی کسر بھی ہوگی

    ہے دل پہ موقوف آدمیت اسی کی تعمیر اصل شے ہے

    کلی ہی کھل کر چمن بھی ہوگی یہ ورنہ ننگ شجر بھی ہوگی

    وہ طور موسیٰ وہ تاب جلوہ ذرا لگن اور تھوڑی بڑھ لے

    وہی تجلی تو اک نہ اک دن قتیلؔ خستہ کے گھر بھی ہوگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے