نقاب سرکی ہے صرف ابھی تو وہ شکل زیب نظر بھی ہوگی
نقاب سرکی ہے صرف ابھی تو وہ شکل زیب نظر بھی ہوگی
ابھی تو گویا سحر ہوئی ہے اٹھے گا دن دوپہر بھی ہوگی
فروتنی ہے کمال انساں اسی میں ثمرہ ہے زندگی کا
جو شاخ جھک کر زمیں پر آئے یقیں ہے وہ بارور بھی ہوگی
بلا ہے یہ اور بلا بھی کالی چڑھائیے اس کو سر نہ اتنا
یہ زلف شبگوں قدم بھی لےگی الجھ پڑے تو یہ سر بھی ہوگی
جفا جو سہہ کر وفا کرے گا وصال ہوگا اسی کا حصہ
وہ شاخ جس پر تبر چلے گا بڑھے گی بھی پُر ثمر بھی ہوگی
کمال کا تو ہوں میں بھی قائل محامد و فضل کل مسلم
مگر یہ واعظ ہیں بھائی ناصح ضرور تھوڑی کسر بھی ہوگی
ہے دل پہ موقوف آدمیت اسی کی تعمیر اصل شے ہے
کلی ہی کھل کر چمن بھی ہوگی یہ ورنہ ننگ شجر بھی ہوگی
وہ طور موسیٰ وہ تاب جلوہ ذرا لگن اور تھوڑی بڑھ لے
وہی تجلی تو اک نہ اک دن قتیلؔ خستہ کے گھر بھی ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.