Font by Mehr Nastaliq Web

مکیں ہو جاؤ تم جس میں وہ دل ویراں نہیں ہوتا

قتیل داناپوری

مکیں ہو جاؤ تم جس میں وہ دل ویراں نہیں ہوتا

قتیل داناپوری

MORE BYقتیل داناپوری

    مکیں ہو جاؤ تم جس میں وہ دل ویراں نہیں ہوتا

    مقید جس میں یوسف ہو وہ گھر زنداں نہیں ہوتا

    نہ کھائے داغ جب تک یاد میں اس روئے انور کی

    وہ دل خورشید ہو جائے مہ تاباں نہیں ہوتا

    یہ دل آتا بھی ہے زد پر تو کیا کہیے کب آتا ہے

    ترے ترکش میں اے سفاک جب پیکاں نہیں ہوتا

    نہ ہو اے غنچہ لب جب تک تبسم تیرے ہونٹوں پر

    کوئی غنچہ ریاضِ دہر میں خنداں نہیں ہوتا

    گریباں چاک ہوتا ہے اِدھر دامن جو سیتا ہوں

    رفو جب تک گریباں ہو اُدھر داماں نہیں ہوتا

    نہ ہو جب تک لگن اس مصحفِ روئے کتابی سے

    کسی کا پارہ دل پارہ قرآں نہیں ہوتا

    یہ میخانہ ہے میخانہ کوئی مسجد نہیں زاہد

    یہاں پیمانہ ہوتا ہے یہاں پیماں نہیں ہوتا

    نہ ہو پیدا بشر میں حسنِ خلق آدمی جب تک

    ملک ہو جائے ممکن ہے مگر انساں نہیں ہوتا

    قتیلؔ اللہ اکبر یاس کا اپنی وہ عالم ہے

    کہ نشتر پر بھی اب زخمِ جگر خنداں نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے