مکیں ہو جاؤ تم جس میں وہ دل ویراں نہیں ہوتا
مکیں ہو جاؤ تم جس میں وہ دل ویراں نہیں ہوتا
مقید جس میں یوسف ہو وہ گھر زنداں نہیں ہوتا
نہ کھائے داغ جب تک یاد میں اس روئے انور کی
وہ دل خورشید ہو جائے مہ تاباں نہیں ہوتا
یہ دل آتا بھی ہے زد پر تو کیا کہیے کب آتا ہے
ترے ترکش میں اے سفاک جب پیکاں نہیں ہوتا
نہ ہو اے غنچہ لب جب تک تبسم تیرے ہونٹوں پر
کوئی غنچہ ریاضِ دہر میں خنداں نہیں ہوتا
گریباں چاک ہوتا ہے اِدھر دامن جو سیتا ہوں
رفو جب تک گریباں ہو اُدھر داماں نہیں ہوتا
نہ ہو جب تک لگن اس مصحفِ روئے کتابی سے
کسی کا پارہ دل پارہ قرآں نہیں ہوتا
یہ میخانہ ہے میخانہ کوئی مسجد نہیں زاہد
یہاں پیمانہ ہوتا ہے یہاں پیماں نہیں ہوتا
نہ ہو پیدا بشر میں حسنِ خلق آدمی جب تک
ملک ہو جائے ممکن ہے مگر انساں نہیں ہوتا
قتیلؔ اللہ اکبر یاس کا اپنی وہ عالم ہے
کہ نشتر پر بھی اب زخمِ جگر خنداں نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.