قفس میں بند نہ کیوں کر کروں زباں صیاد
قفس میں بند نہ کیوں کر کروں زباں صیاد
ہلے گا عرش کروں گا جو میں فغاں صیاد
بہار میں بھی رہائی نہ دی قفس سے مجھے
ترے ستم کا کروں خاک میں بیاں صیاد
نہ کھود بہر خدا تو مزار بلبل کو
کہیں نہ آگ ہو اس خاک میں نہاں صیاد
بہار باغ میں اے باغباں غنیمت ہے
وگرنہ بلبل نالاں کہاں کہاں صیاد
چمن میں روز کہا کرتی ہے یہی بلبل
ہمارے جان کے دشمن ہیں باغباں صیاد
چمن میں رکھتا ہے لاکر قفس کو بلبل کے
ملول دیکھ کے کرتا ہے شادماں صیاد
رہے نہ قابل پرواز بال و پر جس دم
قفس کو کھول کے کرتا ہے امتحاں صیاد
پھنسا یا دام محبت میں تو نے بلبل کو
تری تلاش کے قائل ہیں دوجہاں صیاد
نہ قید ہونے سے غمگیں نہ چھوٹنے کی خوشی
پڑی ہے ایسی مصیبت میں مری جاں صیاد
ازل سے حال عیاں ہے یہاں دو رنگی کا
کبھی بہار چمن میں کبھی خزاں صیاد
نہ جاؤں گا ترے گلشن کو چھوڑ کر ہرگز
فرشتے لے بھی چلیں گے سوئے جناں صیاد
عزیزؔ بلبل دل کا مرے خدا حافظ
ہیں اس کے تاک میں اب تو جہاں تہاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.