Font by Mehr Nastaliq Web

قفس میں بند نہ کیوں کر کروں زباں صیاد

قاضی عبدالعزیز

قفس میں بند نہ کیوں کر کروں زباں صیاد

قاضی عبدالعزیز

MORE BYقاضی عبدالعزیز

    قفس میں بند نہ کیوں کر کروں زباں صیاد

    ہلے گا عرش کروں گا جو میں فغاں صیاد

    بہار میں بھی رہائی نہ دی قفس سے مجھے

    ترے ستم کا کروں خاک میں بیاں صیاد

    نہ کھود بہر خدا تو مزار بلبل کو

    کہیں نہ آگ ہو اس خاک میں نہاں صیاد

    بہار باغ میں اے باغباں غنیمت ہے

    وگرنہ بلبل نالاں کہاں کہاں صیاد

    چمن میں روز کہا کرتی ہے یہی بلبل

    ہمارے جان کے دشمن ہیں باغباں صیاد

    چمن میں رکھتا ہے لاکر قفس کو بلبل کے

    ملول دیکھ کے کرتا ہے شادماں صیاد

    رہے نہ قابل پرواز بال و پر جس دم

    قفس کو کھول کے کرتا ہے امتحاں صیاد

    پھنسا یا دام محبت میں تو نے بلبل کو

    تری تلاش کے قائل ہیں دوجہاں صیاد

    نہ قید ہونے سے غمگیں نہ چھوٹنے کی خوشی

    پڑی ہے ایسی مصیبت میں مری جاں صیاد

    ازل سے حال عیاں ہے یہاں دو رنگی کا

    کبھی بہار چمن میں کبھی خزاں صیاد

    نہ جاؤں گا ترے گلشن کو چھوڑ کر ہرگز

    فرشتے لے بھی چلیں گے سوئے جناں صیاد

    عزیزؔ بلبل دل کا مرے خدا حافظ

    ہیں اس کے تاک میں اب تو جہاں تہاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے