Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھ کے پردے کے باعث ہے یہ غفلت میری

رائے ایشوری پرساد

آنکھ کے پردے کے باعث ہے یہ غفلت میری

رائے ایشوری پرساد

آنکھ کے پردے کے باعث ہے یہ غفلت میری

دیکھنے دیتی نہیں مجھ کو حقیقت میری

آنکھ کے پردوں نے مخلوق بنا رکھا ہے

دیکھنے دیتی نہیں مجھ کو یہ صورت میری

جز صنم اور دکھائی نہ مجھے دیتا ہے

پیر میکش سے ہوئی جب سے کہ بیعت میری

چین سے سویا پڑا ہوں نہ اٹھاؤ مجھ کو

دیکھو دیکھو کہیں ٹھکراؤ نہ تربت میری

آبِ کوثر سے ذرا آنکھ تو دھولے زاہد

تب نظر آئے گی جو کچھ کہ ہے حرمت میری

زر کی خواہش نہیں الفت نہ خلایق کی ہے

رند ہوں صبر وقناعت ہی ہے دولت میری

میں کسی شئے کو بھی اپنے سے علحدہ سمجھوں

یہ روا رکتھی ہے ہرگز نہیں نیت میری

کوئی گر نیچی نگاہوں سے جو دیکھے دیکھے

یار کی آنکھوں میں لاریب ہے وقعت میری

کسمپرسی کے زمانہ میں خدا یاد آیا

آخرش کام مرے آئی یہ غربت مری

میں عطاؔ رند ہوں اور طرز سخن ہے یکتا

مل نہیں سکتی کسی سے کبھی رنگت میری

مأخذ :
  • کتاب : تذکرۂ ہندو شعرائے بہار (Pg. 107)
  • Author : فصیح الدین بلخی
  • مطبع : نینشل بک سینٹر، ڈالٹین گنج پلامو (1961)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے