Font by Mehr Nastaliq Web

سخت جانی نہ ٹلی چھاتی کا پتھر ہو کر

رئیس اکبرآبادی

سخت جانی نہ ٹلی چھاتی کا پتھر ہو کر

رئیس اکبرآبادی

MORE BYرئیس اکبرآبادی

    سخت جانی نہ ٹلی چھاتی کا پتھر ہو کر

    تیز ہو ہو کے بہت خنجر قاتل آیا

    حسرت ذبح دبے پاؤں نکل جائے گی

    میرا سینہ جو تہِ زانوئے قاتل آیا

    منہ مرا دیکھ کے رونے لگا قسامِ ازل

    میری قسمت میں جو یہ ناشدنی دل آیا

    جھوٹے وعدوں کو بھی سچ جان لیا مان لیا

    سچ تویہ ہے کہ برا ہوتا ہے یہ دل آیا

    شوخیاں دیکھیے خود مجھ سے وہ کہتے ہیں رئیسؔ

    کس جگہ آنکھ لڑی کس پہ کہو دل آیا

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 398)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے