سخت جانی نہ ٹلی چھاتی کا پتھر ہو کر
سخت جانی نہ ٹلی چھاتی کا پتھر ہو کر
تیز ہو ہو کے بہت خنجر قاتل آیا
حسرت ذبح دبے پاؤں نکل جائے گی
میرا سینہ جو تہِ زانوئے قاتل آیا
منہ مرا دیکھ کے رونے لگا قسامِ ازل
میری قسمت میں جو یہ ناشدنی دل آیا
جھوٹے وعدوں کو بھی سچ جان لیا مان لیا
سچ تویہ ہے کہ برا ہوتا ہے یہ دل آیا
شوخیاں دیکھیے خود مجھ سے وہ کہتے ہیں رئیسؔ
کس جگہ آنکھ لڑی کس پہ کہو دل آیا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 398)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.